درد و غم کا علاج کیسے ہو
چاہتوں کا رواج کیسے ہو
کل تو جو حال بھی تمھارا تھا
یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو
فرصتِ زندگی نہیں ہم کو
پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو
یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا
ختم آخر سماج کیسے ہو
اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو
گھر میں وافر اَناج کیسے ہو
ہم کو عزّت ندیم ہے درکار
سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
